ہمیر پور،17 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) ریاستی کانگریس کے نائب صدر اور سوجان پور کے ایم ایل اے راجندر رانا نے کہا ہے کہ ملک سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر کھوکھلا ہوتا جارہا ہے۔ ذات پات، مذہب اور مذہب کے نام پر زہر گھول کرلوگوں کو ڈرانے کا کام کیا جارہا ہے۔
ملک میں حالات اس محاورے کی طرح بنائے جاررہے ہیں کہ مال بھی اپنا جائے اور چوربھی آپ ہی کہلائیں، مطلب جس کا نقصان ہو رہا ہے اسی کوچور ثابت کیا جارہا ہے،انہوں نے کہا کہ کاشتکار 3 ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں، لیکن حکومت ملک کے کسان سے بات کرنے کے بجائے چند پسندیدہ صنعتکاروں کے لیے انہیں ذلیل کررہے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے جب کسان حکومت کی پالیسیوں سے پریشان ہوکرخودکشی کر رہے ہیں، وہ بھی ہندوتوا پر اپنے حق جتانے والی بی جے پی کے دور حکومت میں ایسی متضاد صورتحال پیدا ہوئیں ہیں،اس سے زیادہ ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہندوستانی فوج کے جوانوں سے لے کر پولیس افسران سردی میں اپنے کسان خاندانوں کو سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی ملازمت چھوڑ کر ان کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت غرور میں ڈوبی ہوئی ہے، جبکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے کسان مر رہے ہیں۔
حکومت جس نے کسانوں کو ختم کرنے کے لئے مسودہ تیار کیا ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ آتش زدگی سے پورا ملک تباہ ہو رہا ہے اور یہاں تک کہ ان شعلوں سے نفرت پیدا کرنے والی بی جے پی بھی نہیں بچ سکے گی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں میں ملازمت ختم ہورہی ہے۔ کمپنیاں دیوالیہ ہو رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں کسان ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو عوام کو کھانا دے کر زندہ رکھ سکتے ہیں، لیکن حکومت اس مشکل وقت میں کسانوں اور زراعت کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کسان زراعت بل کے خلاف ہیں تو اسے لانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ کونسی مجبوری ہے کہ کسانوں پر زرعی بل عائد کررہے ہیں۔ آحر حکومت کس کوفائدہ پہنچانا چاہتی ہے؟